2416 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو کوئی قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی اور ان کی نگہداشت میرے ذمے ہے۔ اور میں مومنوں سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں (یا ان کا زیادہ ذمے دار ہوں) ۔
1۔ [ضیاعًا] سےمراد وہ افراد ہیں جنھیں اپںی ضروریات پوری کرنے کےلیے نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے مثلًا:چھوٹے بچے بوڑھے اورمعذور افراد جواپںی روزی کابندوبست نہیں کرسکتے۔
2۔ اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے جس میں غریب اورنادار افراد کاخاص خیال رکھا جاتاہے ۔
3۔ نبی ﷺ کاامت سے جوتعلق ہےوہ دوسرے تمام تعلقات سےزیادہ قوی'اہم اورعظیم ہے۔ جس طرح امت کے ہرفردپر نبیﷺ سےمحبت''آپ کا احترام اورآپ کی اطاعت فرض ہے اسی طرح نبی ﷺ بھی امت کے ہرفرد کاخیال رکھتے تھے۔اب یہ فرض مسلمان حکمرانوں پرعائد ہوتا ہے کہ وہ اپںی ذاتی ضروریات اورمنافع پرعوام خصوصًا مستحق افراد کےفائدے اورضروریات کوترجیح دیں۔