2447 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي حَيَّةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ
حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک کھجور کے بدلے میں ایک ڈول پانی نکالتا تھا اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ عمدہ ہو گی۔
1۔ مذکورہ روایت کوہمارےفاضل محقق نےسندًاضعیف قرار دیاہےجبکہ بعض محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے بنا بریں کام شروع کرنے سے پہلے اجرت کاتعین کرلینا چاہیے ۔ تفصیل کےلیے دیکھیے (الارواء للالبانی:5؍313۔315)
2۔ مزدوری کےکام یا اس کی اجرت کےبارےمیں مناسب شرطیں مقرر کر لینا جائز ہے ۔