2451 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرْضِينَ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم میں سے کچھ افراد کے پاس (ضرورت سے) زائد زمینیں تھیں، وہ انہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس زائد زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کرنے دے، اگر وہ ایسے نہیں کرنا چاہتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے۔
اپنے پاس رکھے اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین خالی پڑی رہنے دے ۔ اور ظاہر ہے کہ خالی پڑی رہنے کی صورت میں زمین سےکچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ توکیا یہ بہتر نہیں کہ کسی کوفائدہ اٹھانے دے ۔ی ہ سخاوت اورافضل عمل کی ترغیب ہے