فهرس الكتاب

الصفحة 2479 من 4341

کتاب: رہن( گروی رکھی ہوئی چیز)سے متعلق احکام ومسائل

باب: گھاس بچانے کے لیے ضرورت سے زائد پانی سے روکنے کی ممانعت

2479 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حَارِثَةَ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ وَلَا يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زائد پانی نہ روکا جائے، اور کنویں کے پانی سے منع نہ کیا جائے۔

1 ۔اگر کوئی شخص ایسی جگہ کنواں کھودے جوکسی کی ملکیت نہیں تووہ اس کنویں کااورایک حد تک اس کے قریب کی زمین کامالک ہو جاتاہے تاہم اسے دوسروں کااس پانی سےاستفادہ کرنے سے منع نہیں کرنا چاہیے۔

2۔ اس زمین کےقریب اگر گھاس وغیرہ اگی ہوئی ہو اور وہاں لوگوں کےجانور چرتےہوں تووہ جانور پانی پینے اس کنویں پرآئیں گے اسے ان جانوروں کوپانی پینے سے منع نہیں کرنا چاہیے ۔

3۔ جانوروں کو پانی پینے سے روکنے کامقصد یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس طرح وہ جانور دوسرے مقام پرچرس گے اوریہاں کی گھاس اس کے جانوروں کےکام آئے گی ۔ یہ خود غرضی ہے اور مسلمانوں کی مشترک گھاس پرقبضہ کرنے کا حیلہ ہے اس لیے منع ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت