2481 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ عَنْ عَمِّهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ الْأَعْلَى فَوْقَ الْأَسْفَلِ يَسْقِي الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ
حضرت ثعلبہ بن ابو مالک قرظی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے وادی مہزور کے سیلابی پانی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اوپر والا نیچے والے سے (پانی لینے کا) زیادہ حق رکھتا ہے۔ اوپر والا (کھیت کو) ٹخنوں تک پانی دے، پھر اپنے سے نیچے والے کی طرف پانی چھوڑ دے۔
اوپر والے سے مرادوہ شخص ہے جس کی زمین میں سلابی پانی پہلے پہنچتا ہے ۔ اورنیچے والے سے مراد وہ شخص ہے جس کی زمین میں پانی بعد میں پہنچتاہے ۔ کھیت مین جب اتنا پانی جمع ہوجائے کہ آدمی کے ٹخنے تک پہنچ جائے تواسے چاہیے کہ دوسرے کواپنا کھیت سینچنے دے۔