فهرس الكتاب

الصفحة 2496 من 4341

کتاب: شفعہ سے متعلق احکام ومسائل

باب: ہمسائیگی کی وجہ سے شفعے کا حق

2496 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لِأَحَدٍ قِسْمٌ وَلَا شِرْكٌ إِلَّا الْجِوَارُ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ

حضرت شرید بن سوید ثقفی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین جس میں کسی کا حصہ یا شراکت نہیں، صرف ہمسائیگی ہے (اس کا کیا حکم ہے؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمسایہ اپنے قریب کی جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔

1۔ یعنی ہمسائیگی کی بنا پروہ دوسروں کی نسبت اس بات کازیادہ حق رکھتا ہے کہ زمین یامکان فروخت کرتےوقت پہلے اس سے پوچھا جائے تاکہ اگر وہ خریدنا چاہیے توخریدلے تاہم مالک اگر ہمسائے سے پوچھے بغیرکسی اورکےہاتھ فروخت کردے توقانونی طور پرہمسایہ محض ہمسائیگی کی بنا پر حق شفعہ نہیں رکھتا جیسا کہ حدیث 2499میں اس کی وضاحت موجود ہے نیز دیکھیں حدیث:2499کےفوائد۔

2۔ اگر زمین یامکان کی فروخت کےموقع پرشریک ہمسایہ موجود نہ ہوتو اس کے آنے پراسے شفعے کاحق دیاجائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت