فهرس الكتاب

الصفحة 251 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علم سے فائدہ اٹھانا اور اس پر عمل کرنا

251 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: { اللَّهُمَّ انْفَعْنِى بِمَا عَلَّمْتَنِى وَعَلِّمْنِى مَا يَنْفَعُنِى وَزِدْنِى عِلْمًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ } '' اے اللہ! تو مجھے جو علم نصیب فرمائے اس سے مجھے فائدہ پہنچا اور مجھے وہ علم دے جو مجھے فائدہ دے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ اور ہر حال میں اللہ کی تعریف ہے۔''

(1) ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد مستدرک حاکم میں ہیں لیکن ان کی صحت و ضعف کی طرف اشارہ نہیں کیا، جبکہ شیخ البانی رحمة اللہ علیہ نے اس روایت کو مذکرہ لفظ (والحمدلله علي كل حال) کے علاوہ باقی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیےدیکھیے: (المشكاة' التحقيق الثاني للالباني' حديث:3493) (2) اس میں علم نافع کے حصول کی درخواست کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی ہے کہ جو علم پہلے حاصل ہو چکا ہے، اللہ اسے بھی نفع بخش بنا دے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت