فهرس الكتاب

الصفحة 2510 من 4341

کتاب: گم شدہ چیز ملنے سے متعلق احکام ومسائل

باب: جسے مدفون خزانہ ملے(وہ کیا کرے؟)

2510 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ

حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدفون خزانے میں پانچواں حصہ (زکاۃ) ہے۔

: [رکاز] سے مراد زمین میں مدفون خزانہ ہے جس کا مالک معلوم نہ ہو سکے اور غالب امکان ہوکہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے سے پہلے کاہے ۔ اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کو ادا کیاجائے گا اوریہ ادائیگی فورًا ہو گی ۔ ایک سال پورا ہونے کا انتظار نہیں کیاجائےگا۔ باقی مال اس کی ملکیت ہوگا جسے ملا۔ موجودہ دور میں بعض ملکوں میں حکومت کاپورے مال پرقبضہ کرلینا خلاف شریعت ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت