فهرس الكتاب

الصفحة 2534 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: مسلمان کو صرف تین جرائم کی وجہ سے سزائے موت دی جا سکتی ہے

2534 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَحَدُ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان آدمی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں (محمد ﷺ) اللہ کا رسول ہوں، اسے قتل کرنا حلال نہیں، سوائے تین افراد کے: جان کے بدلے میں جان، شادی شدہ زانی اور اپنے دین کو چھوڑ کر (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جانے والا۔

مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ترک کرکے مسلمانوں سے خارج ہوجاتاہے اور کوئی دوسرامذہب اختیار کرکے کافر میںشمار ہوجاتا ہے اس سے مسلمانوں کی کوئی تنظیم مراد نہیں ہے جو دین کی خدمت تبلیغ یا جہاد وغیرہ کے نقطہ نظر سے قائم کی گئی اور ہر مسلمان اس میں رضا کارانہ طور پر داخل ہوسکتا ہے۔ایک مسلمان جس طرح اس قسم کسی تنظیم میں شامل ہونے سے پہلے مسلمان ہوتا ہے اسے خارج ہونے کے بعد بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔ایسے مسلمان کو باغی بھی قرار نہیں دیاجاسکتا کیونکہ یہ تنظیمیں اسلامی سلطنت کے حکم میں نہیں جس سے بغاوت کی سزاموت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت