2555 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر زنا کا اقرار کیا، رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس کے کپڑے اچھی طرح باندھ دیے گئے، پھر آپ نے اسے سنگسار کیا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
(1) کپڑےجسم پراچھی طرح سمیٹ کرباندھ دینے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کے جسم کی بے پردگی نہ ہو۔
(2) جسے حد لگی ہو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرناچاہیے۔