فهرس الكتاب

الصفحة 2582 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا قتل ہو گیا وہ شہید ہے

2582 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ ظُلْمًا فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے ظلم کے طور پر اس کا مال طلب کیا جائے، وہ قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔

(1) ہرشخص کو حق حاصل ہےکہ اس کی جان اس کامال اس کی عزت محفوظ رہے لہذا حملہ آور کےخلاف دفاع کرنا اس کا حق ہے۔

(2) مال کی حفاظت کے لیے حملہ آور کےخلاف لڑنا جائز ہے توعزت اورجان کی حفاظت کےلڑنا بالاولیٰ جائزہوگا۔

(3) دفاع کرنےوالا شہید ہوجائے تو وہ شہید ہے تاہم اس کادرجہ ایمان کی حفاظت یا اسلامی سلطنت کی حفاظت کے لیے جہاد کرتے ہوئے شہید سے کم ہے۔ایسے شخص کوباقاعدہ غسل اور کفن دے کردفن کیا جائےجب کہ معرکہ جہاد کےشہید کےلیےغسل اور کفن ضرورت نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت