فهرس الكتاب

الصفحة 2592 من 4341

کتاب: شرعی سزاؤں سے متعلق احکام ومسائل

باب: خیانت کرنے والے چھین کر اور اچک کر لے جانے والے کی سزا

2592 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد سنا: اچکنے والے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔

(1) خیانت کا مطلب ہے مالک کی بظاہر خیرخواہی کا اظہار کرتے ہوئے اس کا مال خفیہ طور پر لے لینا۔چھیننے کامطلب ہے کسی سے کوئی چیز زبردستی لینا۔اچکنے کامطلب ہے کسی کی غفلت کافائدہ اٹھا کر اچانک چھین لینا۔

(2) ہاتھ کاٹنے کی سزا چوری کے جرم میں دی جاتی ہے۔مذکورہ جرائم چونکہ چوری میں شامل نہیں اس لیے ان کی سزا میں ہاتھ نہیں کاٹاجاتا۔

(3) ہاتھ نہ کاٹنے کا مطلب مجرم کو معاف کرنا نہیں بلکہ اسے کوئی دوسری مناسب سزا دینا مراد ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت