باب: مسلمانوں کو ظلم کے طور پر قتل کرنا بڑا گناہ ہے
2618 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو ( عبادت میں ) شریک نہیں کرتا اور کسی حرام خون میں ملوث نہیں ہوتا تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔
1-شرک کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔2۔ قتل کے جرم کا ارتکاب جہنم میں داخلے کا باعث ہے۔3۔ جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام کاموں سےاجتناب کیا جائے جو جہنم کی سزا کاباعث بنتے ہیں۔