فهرس الكتاب

الصفحة 2632 من 4341

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: قتل خطا کی دیت

2632 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا» . قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ} [التوبة: 74] . قَالَ: بِأَخْذِهِمُ الدِّيَةَ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے دیت کی مقدار بارہ ہزار (درہم) مقررفرمائی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے یہ صرف اس بات سے ناراض ہو رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول نے دولت مند کر دیا۔'' ابن عباس ؓ نے فرمایا: یعنی انہوں نے دیت وصول کی ( اور اس طرح دولت مند ہوگئے اس کے بعد بجائے شکر گزاری کا راستہ اختیار کرے کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا راستہ اختیار کیا۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت