2660 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''مومن کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے اور نہ عہد والے ( ذمی) کو اس کے عہد میں قتل کیا جائے۔''
1۔اسلامی سلطنت میں رہنے والے غیرمسلم کی جان ومال کی حفاظت مسلمانوں کافرض ہے۔2۔ ذمی کو اس وقت تک قتل کرنا جائز نہیں جب تک وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جس سے اس کا معاہد ختم ہو جائے، مثلًا: قرآن مجید کی بے حرمتی یا نبئ اکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی وغیرہ۔