فهرس الكتاب

الصفحة 2707 من 4341

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

باب: زندگی میں بخل اورمرتےوقت فضول خرچی کی ممانعت

2707 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّهِ ثُمَّ وَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّى تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ

بسر بن جحاش قرشی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، پھر اپی سباب انگلی ( اس کی طرف اشارے کے طور پر) رکھی اور فرمایا: ''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدم کے بیٹے ! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا فرمایا، پھر جب تیری جان یہاں پہنچ جاتی ہے یہ کہوتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا تب تو کہتا ہے: میں صدقہ کرتا ہوں۔ اب صدقے کا وقت کہاں ہے؟''

۔اللہ تعالی انسان کا خالق ہے ، وہ ہر لحاظ سے بندے پر قدرت رکھتا ہے جب کہ بندہ ہر لحاظ سے اس کا محتاج ہے۔2۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ انسان کو ایک ناقابل ذکرحقیر چیز سے پیدا کرکے اسے اشرف المخلوقات بنادیا۔ 3۔ بعض مقامات پر صراحت کی بجائے کنائے کے الفاظ بولنا بہتر ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت