فهرس الكتاب

الصفحة 2733 من 4341

کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل

باب: ولاءکی میراث

2733 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ

عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا آزاد کردہ غلام کھجور کے درخت سے گر کر فوت ہوگیا۔ اس نے کچھ مال چھوڑا تھا لیکن اس کی کوئی اولاد یا رشتے دار نہیں تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ''اس کی میراث اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔''

1۔ اس شخص کی وراثت کے حق دار اصل میں رسول اللہﷺ خود تھے لیکن آپ نے مال لینا پسندنہ فرمایا اور بطور صدقہ اس کی بستی کے کسی مستحق کو دے دینے کا حکم دے دیا۔2۔ جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا مال بیت المال میں جمع کردیا جاتا ہے جو تمام مسلمانوں کوفائدے کے کاموں میں استعمال ہوجاتا ہے۔3۔ بیت المال کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں لا وارث کا ترکہ اس کی بستی والوں کو دیا جاسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت