2748 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
1۔آزاد کرنے والے کا آزاد ہونے والے سے جو تعلق ہوتاہے۔ اسے 'ولاء' کہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسے بعض خاص حقوق حاصل ہوتے ہیں، مثلًا:آزاد ہونے والے کا کوئی وارث نہ ہو تو آزاد کرنے والا اس کا وراث ہوتا ہے۔ اور آزاد ہونے والا آزاد کرنے والے کے قبیلے کا فرد شمار ہوتا ہے۔ 2۔ ولاء کا تعلق ناقابل انتقال ہے۔ اسے نہ بیچا خریدا جاسکتا ہے ، نہ بلامعاوضہ کسی کو دیا جا سکتا ہے