فهرس الكتاب

الصفحة 2751 من 4341

کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل

باب: جوبچہ پیداہوکرروئےوارث ہوگا

2751 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا قَالَ وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ

حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت مسور بن مخرم ؓم سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ' بچہ وارث نہیں ہوگا حتی کہ آواز کے ساتھ چیخے۔'

راوی نے کہا: آواز نکالنے کا مطلب ہے کہ وہ روئے یا چیخے یا چھینک مارے۔

1۔مردہ پیدا ہونے والا بچہ اپنے سے فوت ہونے والے کا وارث نہیں ہوتا۔2۔ آواز نکالنا زندہ پیدا ہونے کی علامت ہے۔ عام طور پر بچہ پیدا ہونے کے بعد روتا ہے، اس لیے رونے کا ذکر کیا گیا، ورنہ کوئی بھی ایسی علامت جس سے بچے کے زندہ ہونے کا یقین ہو جائے، کافی ہے۔3۔ مذکورہ صورت میں وراثت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے بچے کوزندہ فرض کرکے میت کا ترکہ تقسیم کیا جائے اور بچے کا حصہ معلوم کیا جائے، پھربچے کے فوت ہوجانے کی وجہ سے اس کا حصہ اس کے وارثوں میں تقسیم کردیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت