2773 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب تمہیں ( جہاد کےلیے ) نکلنے کو کہاجائے تو نکلا کرو۔
1۔جب کافروں سے جہاد کا موقع آئےتو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاد میں عملی طور پر شریک ہونا چاہیے۔
2۔ایک باقاعدہ اسلامی حکومت میں امیر کے حکم سے جہاد کیا جاتا ہے۔لیکن اگر ایسی صورت حال نہ ہو اور کسی علاقے کے مسلمان کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہوں تو مسلمانوں کو خود منظم طور پر جہاد کرنا چاہیے۔اس صورت میں امیر جہاد جس محاذ پر بھیجے جانا چاہیے