فهرس الكتاب

الصفحة 2836 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب:(جنگ کے شروع میں )انفرادی مقا بلہ اور مقتول کا ذاتی سا ما ن

2836 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ

حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:میں نے ایک آدمی کا مقابلہ کیا اور اسے قتل کردیا تو نبی ﷺ نے اس کا سامان مجھے دلوایا۔

1۔سلب سے مراد مقتول کا ذاتی سامان ہے مثلًا: لباس تلوار وغیرہ۔یہ چیزیں اسی مجاہد کا حق ہیں جو اس کافر کو قتل کرے۔

2۔سلب کے علاوہ باقی مال غنیمت مجاہدین کی اجتماعی ملکیت ہے۔اس میں سے ہر مجاہد وہی کچھ لے سکتا ہے۔جو مال غنیمت کی تقسیم کے وقت اس کے حصے میں آئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت