2836 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:میں نے ایک آدمی کا مقابلہ کیا اور اسے قتل کردیا تو نبی ﷺ نے اس کا سامان مجھے دلوایا۔
1۔سلب سے مراد مقتول کا ذاتی سامان ہے مثلًا: لباس تلوار وغیرہ۔یہ چیزیں اسی مجاہد کا حق ہیں جو اس کافر کو قتل کرے۔
2۔سلب کے علاوہ باقی مال غنیمت مجاہدین کی اجتماعی ملکیت ہے۔اس میں سے ہر مجاہد وہی کچھ لے سکتا ہے۔جو مال غنیمت کی تقسیم کے وقت اس کے حصے میں آئے۔