فهرس الكتاب

الصفحة 2845 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: دشمن کے علا قے میں( درختو ں اور مکانوں وغیرہ کو )آگ لگا نا

2845 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَفِيهِ يَقُولُ شَاعِرُهُمْ فَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بنی ﷺ نےبنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلائے اور کاٹے اور اسی کے بارے میں شاعر نے کہا:

بنولؤی (قریش) کے سرداروں کےگیا کہ بویرہ میں ہر طرف پھیلی ہوئی آگ لگی ہو۔''

1۔یہ شعر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے۔ (صحيح البخاري الحرث والمزارعة باب قطع الشحر والنخل حديث:2326)

2۔علامہ وحید الزمانؒنے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا شعر کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے: بنی لؤی کے عمائد پہ ہوگیا آسان۔لگی ہوآگ بویرہ میں ہر طرف سوزاں

3۔کسی ضرورت کے موقع پر پھل دار یا سایہ دار درخت کو کاٹنا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت