فهرس الكتاب

الصفحة 2849 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: مال غنیمت میں خیا نت

2849 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كِرْكِرَةُ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ فِي النَّارِ فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فَوَجَدُوا عَلَيْهِ كِسَاءً أَوْ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ کےسامان کی دیکھ بھال پر ایک آدمی متعین تھا جسے کرکرہ کہتے تھے۔وہ فوت ہوگیا تو نبیﷺ نے فرمایا:وہ جہنم میں ہے۔صحابہ کرام دیکھنے لگے (کہ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے) توانھیں اس کے پاس ایک چادر ملی یا عبا ملی جو اس نے (مال غنیمت میں سے) چرالی تھی۔

1۔۔مال غنیمت میں خیانت بہت بڑا جرم ہے۔

2۔چرائی ہوئی چیز معمولی ہو تو بھی جرم کی شناعت میں فرق نہیں پڑتا۔

3۔اس حدیث سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن جہنم میں نہیں جاسکتا۔کتاب وسنت کے دلائل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گناہ کی وجہ سے ایک گناہ گار مومن شخص بھی جہنم کا مستحق ہوسکتا ہے'تاہم جہنم کا دائمی عذاب صرف کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت