فهرس الكتاب

الصفحة 2883 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج کے لئے روانگی کا بیا ن

2883 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ

حضرت عبداللہ بن عباس یاحضرت فضل بن عباس ؓ سے روایت ہےرسول اللہ ﷺنے فرمایا:جو شخص حج کا ارادہ رکھتاہواسے چاہیے کہ جلدی کرے کیونکہ ممکن ہےآدمی بیمار ہوجائےیا اس کی سواری گم ہوجائے یا کوئی اورضرورت پیش آجائے۔ (جس کی وجہ سے وہ حج نہ کر سکے) ۔

1۔نیکی کا موقع ملے تو اسے جلد انجام دینا بہتر ہے ممکن ہے یہ موقع نکل جانے کے بعد دوبارہ نہ ملے۔

2۔حج سال میں ایک ہی بار خاص ایام میں ادا کیا جاسکتا ہے۔اگر طاقت ہونے کے باوجود اگلے سال پر چھوڑدیا جائے تو ممکن نہ ہو ۔یا شاید زندگی میں اگلا حج نہ آئے اور اگر آئے تو آدمی کو استطاعت نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت