فهرس الكتاب

الصفحة 2913 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: نفاس اور حیض والی عورت کا احرام حج

2913 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُهِلَّ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا: حضرت اس بنت عمیس ؓا کے ہاں محمد بن ابی بکر ؓ پیدا ہوئے تو انھو ں نے (مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ) نبیﷺ کو پیغام بھیجا ( کہ اب کیا کرو ں؟) آپ نے حکم دیا کہ غسل کریں اور ایک کپڑے کو لنگوٹ کی طرح باندھ لیں اور لبیک پکاریں (احرام باندھ لیں۔)

کپڑا باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر روئی وغیرہ رکھ لی جائے تاکہ دوسرے کپڑوں کو خون نہ لگےاور پریشانی نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت