فهرس الكتاب

الصفحة 2921 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: لبیک پکارنا

2921 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے'رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''جو بھی تلبیہ کہنے والا لبیک پکارتا ہے'اس کے دائیں بائیں دونوں طرف زمین کی انتہا تک ہر پتھر 'درخت اور اینٹ (ہر چیز) لبیک پکارتی ہے۔''

1۔لبیک پکارنا بہت بڑی نیکی ہے۔

2۔بے جان چیزیں بھی نیک و بد کی تمیز رکھتی ہیں اور نیکی کے کام میں شریک ہوتی ہیں لیکن ان تسبیحات اور اذکار جن وانس کے ادراک سے ماورا ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت