3014 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمْ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ
حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن بندوں کو آگ سے آزاد نہیں کرتا۔اللہ عزوجل (بندوں سے) قریب ہوتا ہے پھراور قریب ہوتا ہے پھر ان کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے اظہار فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے:یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟
1۔عرفے کے دن اللہ کی رحمت کا دن ہے'اس لیے اس دن روزہ رکھنا مسنون ہے'تاہم حاجیوں کے لیے یہ روزہ رکھنا منع ہےکیونکہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے عرفات میں یہ روزہ نہیں رکھا تھا۔ (صحيح البخاري'الصوم'باب صوم يوم عرفة'حديث:1988)
2۔اللہ کا قریب ہونا اور کلام کرنا اس کی صفت ہے جس کی کیفیت بندوں کو معلوم نہیں۔صفات الہی پر ایمان رکھنا چاہیے لیکن ان صفات کو بندوں کی صفات سے مشابہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
3۔حج میں بندے اللہ کی رضا اور رحمت کے حصول کے لیے عرفات میں جمع ہوتے ہیں'اس لیے انھیں یہ رحمت و مغفرت حاصل ہوجاتی ہے۔