فهرس الكتاب

الصفحة 3018 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: عرفات سے روانگی

3018 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ''قَالَتْ قُرَيْشٌ: نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199] ''

حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا:قریش کہتے تھے:ہم بیت اللہ کے پاس رہنے والے ہیں۔ہم حرم (کی حدود) سے آگے نہیں جائیں گے'اس لیے اللہ نے فرمایا: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} ''پھر وہاں سے واپس آؤ جہاں سے (دوسرے) لوگ واپس آئیں۔''

1۔حج کے لیے عرفات جانا ضروری ہے۔

2۔شریعت میں اپنی طرف سے مسائل بنالینا درست نہیں۔

3۔حرم کے رہنے والوں کے لیے جو احکام دوسروں سے الگ ہیں'وہ واضح کردیے گئے ہیں'مثلًا: حج تمتع کی قربانی یا اس کے متبادل کے طور پر دس روزے رکھنے کا اہل حرم کے لیے نہیں۔ (البقرة2:192)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت