فهرس الكتاب

الصفحة 3024 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: مزدلفہ میں ٹھہرنا

3024 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: غَدَاةَ جَمْعٍ «يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاسَ» أَوْ «أَنْصِتِ النَّاسَ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا، فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ، لِمُحْسِنِكُمْ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ، ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ»

حضرت بلال بن رباح ؓ سے روایت ہے'نبیﷺنے مزدلفہ کی صبح ان سے فرمایا:''بلال!لوگوں کو خاموش کرو۔''پھر فرمایا:'' اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس مزدلفہ میں تم پر احسان فرمایا ہے کہ تمہارے نیکوں کاروں کی وجہ سے تمہارے گناہ گاروں کو بھی بخش دیا ہے اور تمہارے نیکوں کاروں نے جو کچھ مانگا انھیں دے دیا۔اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔''

1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قراردیا ہے۔جبکہ بعض دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (الصحيحة للالبانيرقم:1624) بنابریں اگر مجمع بڑا ہوتو بات شروع کرنے سے پہلے سامعین کو توجہ دلائی جاسکتی ہےکہ خاموشی سے بات سنیں۔

2۔مزدلفہ میں اللہ کی طرف سے حاجیوں کو مغفرت کا انعام ملتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت