فهرس الكتاب

الصفحة 3052 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب:(دس ذی الحجہ کو)حج کے اعمال میں تقدیم وتاخیر

3052 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِلنَّاسِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ قَالَ: «لَا حَرَجَ» ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَحَرْتُ، قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ قَالَ: «لَا حَرَجَ» فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ، قُدِّمَ قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: «لَا حَرَجَ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ قربانی کے دن منیٰ میں لوگوں (کو مسائل بتانے) کے لیے بیٹھ گئے ایک آدمی نے آ کر کہا:اے اللہ کے رسول اللہ!میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:''کوئی حرج نہیں۔''پھر ایک اور آدمی آیا 'اس نے کہا: اللہ کے رسول اللہ! میں نے رمی سے (کنکر مارنے) سے پہلے جانور کی قربانی دےدی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:''کوئی حرج نہیں۔''اس دن جس کام کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جسے دوسرے کام سے پہلے کر لیا گیا تھا آپ نے یہی فرمایا:''کوئی حرج نہیں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت