فهرس الكتاب

الصفحة 3064 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: کعبہ شریف میں داخل ہونا

3064 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي، وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي، وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ؟ فَقَالَ: «إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ، أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي»

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا:نبیﷺ میرے پاس سے باہر اتشریف لے گے تو آپ مطمئن اور خوش تھے-پھر میرے پاس واپس آے تو غمگین تھے-میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ!آپ میرے پاس سے تشریف لےگے تو آپ مطمئن اور خوش تھے اور واپس آے تو آپ غمگین (اور پریشان) ہیں (اس کی وجہ کیا ہے ؟) آپ نے فرمایا:''میں کعبے کے اندر گیا تھا-اب میرا جی چاہتا ہے کہ (کاش) میں نے ایسے نہ کیا ہوتا -مجھےخدشہ ہے کہ (اپنے اس عمل کی وجہ سے) اپنے بعد اپنی امت کو مشقت میں مبتلا نہ کر دوں -''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت