3071 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَنْفِرَ الرَّجُلُ، حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ»
حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نےفرمایا:رسول اللہﷺنے آخری وقت طواف بیت اللہ کیے بغیر (واپس) کوچ کرنے سے منع فرمایا ۔
1۔حج اور عمرے میں بنیادی اہمیت بیت اللہ شریف کو حاصل ہے۔اس لیے واپسی کے وقت بھی طواف وداع کا حکم دیا گیا ہے۔
2۔کوشش کرنی چاہیے کہ طواف وداع اس وقت کیا جائے جب روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہوچکے ہوں اور اب صرف مدینہ جانے کے لیے بس یا ٹیکسی اسٹینڈ پر جانا ہو۔یا اپنے وطن روانہ ہونے کے لیے ائیرپورٹ یا بندرگاہ جانے کے لیے بالکل تیار ہوں۔
3۔طواف وداع کے وقت مسجد سے باہر آتے وقت الٹے پاؤں چلنا سنت سے ثابت نہیں۔