3073 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَقُلْنَا: قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ: «عَقْرَى حَلْقَى مَا أُرَاهَا، إِلَّا حَابِسَتَنَا» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: «فَلَا، إِذَنْ، مُرُوهَا، فَلْتَنْفِرْ»
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے'انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺنے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو یاد فرمایا:''ہم نے عرض کیا:وہ ایام سے ہیں-آپﷺنے فر یا:''بانجھ ہو!سر مونڈا جاے !میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ اس نے قربانی کے دن طواف (افاضہ) کر لیا تھا-رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''تب (کوی رکاوٹ) نہیں'اسے حکم دو کہ کوچ کرے-''
1۔۔طواف افاضہ حج کا رکن ہے جو دس ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے۔
2۔اگر کوئی عورت حیض کی وجہ سے طواف افاضہ دس ذوالحجہ کو نہ کرسکےتو جب پاک ہو تب کرلے۔
3۔جس عورت نے طواف افاضہ کرلیاہو۔وہ اگر مکہ سے واپسی کے دن حیض سے ہو تواسے طواف وداع معاف ہے۔
4۔رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا:"بانجھ ہو!سر مونڈا جائے۔! بد دعا کے طور پر نہیں بلکہ عربوں کے عام محاورے کے مطابق پریشانی کا اظہار ہے۔"