فهرس الكتاب

الصفحة 3080 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: رکاوٹ والے کا فدیہ

3080 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: «أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ آذَانِي الْقَمْلُ، أَنْ أَحْلِقَ رَأْسِي، وَأَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، وَقَدْ عَلِمَ أَنْ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُكُ»

حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے جب جوؤں سے تکلیف پہنچی تو نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈا دوں اور تین دن روزے رکھوں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دوں۔ رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ میرے پاس قربانی دینے کی گنجائش نہیں۔

1۔احرام کی حالت میں سر منڈوانا اور بال کاٹنا منع ہے،

2۔اگر کسی عذر کی وجہ سے وہ کام کرنا پڑے جو احرام کی حالت میں جائز نہیں تو فدیہ دینا پڑے ہوگا۔

3۔فدیہ ایک بکری ہے۔اگر یہ ممکن نہ ہوتو تین روزے رکھ لیے جائیں یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع غلہ دےدیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت