فهرس الكتاب

الصفحة 3088 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: احرام والا کس جانور کو قتل کر سکتاہے؟

3088 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ - أَوْ قَالَ فِي قَتْلِهِنَّ - وَهُوَ حَرَامٌ: الْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جن کے قتل کرنے والے پر (یا فرمایا: جن کے قتل کرنے میں) کوئی گناہ نہیں اور وہ حرام ہیں: بچھو،کوا، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔

1۔احرام کی حالت میں موذی جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے۔

2۔ان جانوروں کو حرم کی حد میں بھی قتل کرنا جائز ہے۔

3۔کوے سے مراد وہ کوا ہے جس کا کچھ حصہ (پیٹ وغیرہ) سفید ہوتا ہے۔

4۔کاٹنے والے کتے سے مراد وہ کتا ہےجو ہڑکایا ہوااور باؤلا ہو۔

5۔شیرچیتےوغیرہ درندوں کا بھی یہی حکم ہےکیونکہ ان سے بھی مسافروں کو جان کا خطرہ ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت