فهرس الكتاب

الصفحة 3095 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: قربانی کے اونٹوں کو قلادے پہنانا

3095 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ، لِهَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا، مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ»

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کی ہدی (قربانی کے جانوروں) کے لیے قلادے بٹتی تھی تو آپ اپنی ہدی کو قلادے پہناتے تھے۔ پھر ان (جانوروں) کو (مکہ شریف) بھیج دیتے۔ پھر آپ (مدینہ شریف میں) قیام پذیر رہتے اور کسی ایسی چیز سے پرہیز نہ کرتے جس سے احرام والا پرہیز کیا کرتا ہے۔

1۔هدي اس جانور کو کہتے ہیں جو حرم کی حدود میں قربان کیا جاتا ہے۔

2۔جس طرح حاجی ہدی کی قربانی دیتا ہےاس طرح دوسرا آدمی بھی ہدی کا جانور مکہ میں بھیج سکتا ہے۔

3۔یہ جانور منی میں قربان کیے جاتے ہیںتاہم مکہ شریف کے اندر بھی قربان کیے جاسکتے ہیں۔

4۔قلادے سے مراد وہ رسی ہے جو ہدی کے گلے میں ڈالی جاتی ہےاور علامت کے طور پر جوتوں کا جوڑا اس رسی کے ذریعے سے جانور کے گلے میں لٹکادیا جاتا ہے۔

5۔قربانی کا جانور (اونٹگائے بکری اور بھیڑ وغیرہ) مکہ بھیجنے والے احرام کی پابندیاں عائد نہیں ہوتیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت