فهرس الكتاب

الصفحة 3112 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: مدینہ طیبہ کی فضیلت

3112 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ، فَلْيَفْعَلْ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا»

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص یہ کرسکے کہ مدینہ میں مرے تو ضرور یہ کرے ۔ جو شخص یہاں فوت ہوگا ، میں اس کے حق میں گواہی دوں گا ۔''

1۔کسی خاص جگہ پر وفات پانا انسان کے بس میں نہیں لیکن وہ تمنا اور کوشش کرسکتا ہے۔کہ زندگی کا آخری حصہ مدینے میں گزارے۔

2۔مدینے میں فوت ہونا باعث شرف ہےکیونکہ اس کے حق میں نبی اکرم ﷺ شفاعت کریں گے۔

3۔ یہ شرف اس شخص کےلیے ہے جس کی موت ایمان کی حالت میں واقع ہوورنہ منافق اور مشرک کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت نہیں ملے گیاور ان کے حق میں کی گئی شفاعت قبول نہیں ہوگیجیسے عبداللہ بن ابی کے حق میں کی ہوئی شفاعت قبول نہیں ہوئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت