فهرس الكتاب

الصفحة 3178 من 4341

کتاب: ذبیحہ سے متعلق احکام ومسائل

باب: کس چیز سے ذبح کیا جائے؟

3178 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ فِي الْمَغَازِي، فَلَا يَكُونُ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ غَيْرَ السِّنِّ، وَالظُّفْرِ، فَإِنَّ السِّنَّ عَظْمٌ، وَالظُّفْرَ، مُدَى الْحَبَشَةِ»

حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ ک ساتھ ایک سفرمیں تھے ۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم جنگوں میں جاتے ہیں اور (مال غنیمت ملنے والے جانور ذبح کرنے کے لیے ) ہمارےپاس چھریاں نہیں ہوتیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ہمارے پاس چھریاں نہیں ہوتیں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ خون جاری ہوجائے اور اس پر اللہ کانام جائے تو (اس طرح ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت ) کھا لے، سوائے دانت اور ناخن کے کیونکہ دانت تو ہڈی ہے اور یاخن حبشیوں کی جبشیوں کی چھریاں ہیں ۔''

1۔لوہے کی چھری کے علاوہ نیزے،تلوار اور شیشے کے ٹکڑے وغیرہ سے ذبح کرنا بھی جائز ہے۔

2۔اگر ہڈی کا ٹکڑا ٹوٹ کر تیز دھار کی طرح بن گیا ہواور اس سے ذبح کرنا ممکن ہو،تب بھی اس سے ذبح نہیں کرنا چاہیے۔

3۔کسی چھوٹے جانور یا پرندے کو دانت سے کاٹ کر ذبح کرلیا جائے تو یہ ذبح نہیں ہوگا کیونکہ یہ ممنوع ہے۔

4۔اسی طرح ناخن سے خون نکال کر جانور کو بے جان کرنا جائز نہیں۔

5۔حبشیوں سے مراد غیر مسلم حبشی ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں ان لوگوں کی غالب اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔

6۔غیر مسلموں کے رسم ورواج اور طور طریقوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنا ضروری ہے کیونکہ نبی ﷺ نے ناخن سے ذبح کرنے کی ممانعت کا سبب بیان کیا ہے کہ یہ غیر مسلم حبشیوں کا طریقہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت