فهرس الكتاب

الصفحة 3215 من 4341

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

باب: معراض سے شکار کرنا

3215 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «لَا تَأْكُلْ، إِلَّا أَنْ يَخْزِقَ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے معراض کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: نہ کھا، سوائے اس کے کہ وہ پھاڑ دے۔''

1۔ معراض ایک قسم کاتیر ہوتا تھا جوصرف لکڑی کے ایک نوک دار ٹکڑے پر مشتمل ہوتا تھا اس میں لوہے کا پھل وغیرہ نہیں لگاہوتا تھا ۔

2۔ اگر معراض شکار کو نوک کی طرف سے لگے تو وہ بدن میں گھس کر زخمی کرتا ہے اس صورت میں وہ عام تیر کا کام کرتا ہے اس لیے اس صورت مین وہ شکار حلال ہے لیکن چوڑائی کے رخ لگنے پر وہ لاٹھی کی طرح چوٹ لگاتا ہے اس سے اگر جانور مرجائے تو وہ حرام ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت