فهرس الكتاب

الصفحة 3231 من 4341

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

باب: گرگٹ(یا چھپکلی )کو مارنا

3231 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةِ الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الْأَوْزَاغَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: «أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ، لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ، إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ، غَيْرَ الْوَزَغِ، فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْفُخُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ»

حضرت فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی سائبہ ؓا سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ ؓا کے پاس کئیں تو ان کے گھر میں ایک نیزہ پڑا ہوا دیکھا۔ انہوں نے کہا: ام المومنین! آپ اس (نیزے) کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہم اس کے ساتھ چھپکلیاں مارتے ہیں کیونکہ ہمیں اللہ کے نبیﷺ نے بتایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں جو بھی جانور تا اس نے آگ بجھائی، سوائے چھپکلی کے۔ وہ تو (آگ تیز کرنے کے لیے) پھونکیں مارتی تھی، چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔

1۔چھپکلی کو مار دینا چاہیے۔

2۔ جس چھپکلی نے حضرت ابراہیم کےلیے جلائی ہوئی آگ میں پھونکیں ماریں وہ تو صدیوں پہلے مر گئی لیکن اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ یہ جانور طبعًا شریر ہے ۔ جس طرح گدھا اپنی طبیعت کے لحاظ سے شیطان سے مناسبت رکھتا ہے ۔

3۔ چھپکلی نقصان دہ جانور ہے اور ایسے جانور کو قتل کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس سے واقعی نقصان پہنچے جیسے سانپ اور بچھو وغیرہ کو قتل کیا جاتا ہے خواہ انہوں نے کسی کو نہ کاٹا ہو اور نہ ڈنگ ماراہو ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت