فهرس الكتاب

الصفحة 3253 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب: کھانا کھلانے کا بیان

3253 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ، عَلَى مَنْ عَرَفْتَ، وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ»

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے سولا کیا: اے اللہ کے رسو! اسلام کا کون سا عمل بہتر ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: '' یہ کہ تو کھانا کھلائے اورجسے تو جانتا ہےاسے بھی سلام کرے اور جسے تو نہیں جانتا اسے بھی سلام کرے۔''

ہرو اقف اور ناواقف کو سلام کرنے کا مطلب عزیز دوست اور اجنبی یعنی ہر مسلمان کو سلام کرنا ہے ۔ جس شخص کےبارے میں معلوم ہو کہ وہ غیر مسلم ہے اسے سلام نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ غیر مسلم کافرض ہے کہ مسلمان کوسلام کرنے میں پہل کرے ۔ جب وہ سلام کرنے تو مسلمان کو چاہیے کہ اسے سلام کے جواب میں وعلیکم کہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت