329 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالصَّلَاةَ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنْ الْمَلَاعِنِ
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' راستے کے درمیان ( رات کو آرام کرنے اور سونے کے لیے نہ ٹھہراؤ اور وہاں نماز نہ پڑھو کیوں یہ سانپوں اور درندوں کا ٹھکانا ہے ، اور وہاں قضائے حاجت نہ کرو کیوں کہ یہ لعنت کا باعث ہے۔''
رات کو جب راستے پر انسانوں کی آمدرفت رک جاتی ہےتو موذی جانور اور حشرات اپنے ٹھکانوں سے نکل آتے ہیںاور ان راستوں سے گزرتے ہیں،اس لیے اگر کوئی مسافر لیٹ کرسورہاہوتوممکن ہے کوئی سانپ بچھووغیرہ اسے نقصان پہنچائے۔
2۔اس حدیث سے بھی راستے میں قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
3۔بعض محققین نے (والصلاة عليها) کے الفاظ کے علاوہ اسے حسن قراردیاہے۔تفصیل کے لیے دیکھیے: ( الصحيحة'حدیث:2433)