3295 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ، فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ، حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَهُ، وَإِنْ شَبِعَ، حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ، وَلْيُعْذِرْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ، فَيَقْبِضُ يَدَهُ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ»
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جب دستر خواہن (پرکھانا) لگا دیا جائے تو کوئی آدمی (فارغ ہو کر) نہ اٹھے حتیٰ کہ دستر خوان اٹھایا جائے۔ اور اپنا ہاتھ نہ روکے اگر چہ سیر ہوگیا ہو حتیٰ کہ لوگ فارغ ہو جائیں۔ اور (اگر اسے ضرورت نہ ہو تو) چاہیے کہ (اپنا) عذر بیان کردے، کیونکہ آدمی (ہاتھ روک کر) اپنے ساتھی کو شرمندہ کردیتا ہے اور وہ بھی (شرم کی وجہ سے) ہاتھ روک لیتا ہے۔ ممکن ہے اسے ابھی کھانے کی (مزید ضرورت ہو۔''