فهرس الكتاب

الصفحة 3332 من 4341

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

باب:(ساتھیوں کی موجودگی میں )دو دو کھجوریں ملا کر کھانے کی ممانعت کا بیان

3332 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ سَعْدٌ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ حَدِيثُهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ» يَعْنِي فِي التَّمْرِ

حضرت ابو بکر ؓ کے آزاد کردہ حضرت سعد ؓ 'جو نبیﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے'اور نبیﷺ کو ان کی باتیں اچھی لگتی تھیں'ان سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے دو دو کھجوریں ملا کے کھانے سے منع فرمایا۔

1۔ جب دوسرے ساتھی ایک ایک کھجور کھار ہے ہوں تو ایک آدمی کا دو دو کھجوریں اٹھانا معیوب محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس سے بظاہر بسیار خوری یا طمع کی عادت معلوم ہوتی ہے ۔

2۔ ممکن ہے ایک آدمی زیادہ بھوکا ہو یا بے تکلفی ساتھی ہوں جو ایسی چیز کو برا محسوس نہ کریں تو پھر دو دو کھجوریں اٹھانا بھی جائز ہو گا ۔

3۔ کھانا کھانے کے دوران میں ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے جوساتھیوں کو ناگوار ہو ۔

4۔ مسند احمد میں [حدیثة] کےبجائے [خدمته ] کے الفاظ ہیں یعنی نبی ﷺ کو حضرت سعدیہ ؓ کا خدمت کرنا اچھا لگتا تھا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت