3336 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، أَنَّ حَنَشَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، أَنَّهَا غَرْبَلَتْ دَقِيقًا، فَصَنَعَتْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَتْ: طَعَامٌ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِنْهُ لَكَ رَغِيفًا، فَقَالَ: «رُدِّيهِ فِيهِ، ثُمَّ اعْجِنِيهِ»
حضرت ام ایمن (برکت) ؓا سے روایت ہے کہ انھوں نے آٹا چھان کر نبیﷺکے لیے روٹی تیار کی تو آپ نے فرمایا:''یہ کیا ہے؟''انھوں نے عرض کیا:یہ کھانا ہم اپنے علاقے میں بنایا کرتے ہیں۔میرا جی چاہا کہ آپ کے لیے بھی اس قسم کی ایک روٹی پکا دوں ۔نبیﷺ نے فرمایا:''اس کو دوبارہ آٹے میں ڈال دو'پھر گوندو۔''
1۔ آٹے کی بھوسی (پنجابی: چھان ) غذائی لحاظ سے مفید ہے اور بے چھنے آٹے کی روٹی جلد ہضم ہوتی ہے ۔
2۔ کھانے پینے کی اشیاء میں تکلفات سے پر ہیز کرنا چاہیے ۔