فهرس الكتاب

الصفحة 3409 من 4341

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل

باب: مٹکے میں بنی ہوئی نبیذ

3409 حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ صَدَقَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ فَقَالَ: «اضْرِبْ بِهَذَا، الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ، مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے رو ایت ہے کے نبی ﷺ کی خدمت میں گھڑ ے میں بنی ہوئی نبیذ پیش کی گئی جس میں ابال پید ا ہو گیا تھا ( اور جھاگ آگیا تھا۔ ) آپﷺ نے فر یا: اسے دیو ار پر دے رو ۔ یہ تو ایسے شخص کا مشروب ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ای ن نہیں رکھتا ۔''

1۔۔نبیذ میں جوش آنا اور جھاگ آجانا اس کے نشہ آور ہوجانے کی علامت ہے اسی طرح اگر اس کازائقہ تلخ ہوجائے تو اسے پینا منع ہے۔2۔حرام مشروب کا ضائع کردینا چاہیے۔3۔کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ایمان کے ناقص ہونے کی علامت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت