فهرس الكتاب

الصفحة 3421 من 4341

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل

باب: مشک کے منہ سے پانی پینا

3421 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى أَنْ يُشْرَبَ، مِنْ فَمِ السِّقَاءِ»

حضرت عبد اللہ بن عبا س ؓ سے روایت ہے کے رسو ل اللہ ﷺ نے اس با ت سے منع فر یا کہ مشک کے منہ سے پا نی پیا جائے ۔

حدیث:3423 میں رسول اللہﷺ کے بذات خود مشکیزے کے منہ سے پانی پینے کازکر ہے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں طرح کی احادیث کو اس انداز سے جمع کرنے کی ترجیح دی ہے۔کہ جواز اس وقت ہے۔ جب کوئی عذر ہو۔مثلا مشک لٹکی ہوئی ہو۔اور کوئی برتن موجود نہ ہو (جس میں سے مشک میں سے ڈال کر پانی پیا جاسکے) اور ہاتھ سے پینا مشکل ہو اس وقت (مشک کے منہ سے براہ راست پانی پی لینا9 مکروہ نہیں اگرعذر نہ ہو تو منع کی احادیث پر عمل کیا جائے۔(فتح الباری:10/114)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت