3470 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا، وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا، لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ، فِي الْآخِرَةِ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہےکہ نبی ﷺ ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جسے بخار تھا ۔ حضرت ابو ہریرہ بھی ساتھ تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے (مریض سے ) فرمایا: ''خوش ہو جاؤ ! اللہ تعالی فرماتاہے: بخار میری آگ ہے جسے دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں جہنم کے عذاب کے عوض اس کاحصہ اس (بخار) کو قرارا دیا جائے ۔''
1۔مریض کی عیادت کرنا مسلمان کامسلمان پر حق ہے۔2۔عیادت کامقصد بیمار کوتسلی دینا اوراس کے غم وفکر میں تخفیف کرنا ہے۔3۔بیماری کی وجہ سے مسلمان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔4۔دنیا کی مصیبت پرصبرکرنے سے جہنم سے نجات ملتی ہے۔