فهرس الكتاب

الصفحة 3485 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: سینگی جسم کے کس حصے میں لگائی جائے؟

3485 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ» قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ

حضرت جابر ؓسےروایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: گھوڑے سے کھجور درخت کے (کٹے ہوئے ) تنے پرگر پڑے ، اس سے آپ کے پاؤں کا جوڑ متاثر ہوگیا ۔

امام وکیع ﷫ نے فرمایا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے تکلیف کی وجہ سے پاؤں پر سینگی لگوائی۔

1۔پاؤں میں موچ آجائے یاجوڑ کی ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو سینگی لگوانا مفید ہے۔2۔حادثاتی طور پراگر چوٹ آنے سے اگر ذخم نہ آئے تو خون چوٹ کی جگہ جم کر تکلیف کاباعث بنتا ہے۔اس صورت میں سینگی لگوانے سے متاثرہ حصے میں دوران خون کا نظام درست ہوجاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت