3493 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَبِيبًا، فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ»
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: حضرت ابی بن کعب بیمار ہوگئے۔نبی ﷺ نے این کے پاس ایک طبیب بھیجا۔ اس نے ان کی رگ اکحل پر داغ پر دیا ۔
1۔اکحل وہ رگ ہے جسکو ہفت اندام کہتے ہیں۔یہ ہاتھ میں اکحل کہلاتی ہے۔اور اس میں نسا اگر یہ کٹ جائے تو خون بند نہیں ہوتا۔ نیز علاج کے لئے اس لئے اس سے قصد طریقے سے سر سینہ پشت اور دست وپاکا خون نکالاجاتا ہے۔2۔طب کا پیشہ ایک جائز زریعہ معاش ہے۔